Thu 28 Nov 2019
When you look at below chart, you can see why the world is full of poverty. Only 2 out of the top 20 billionaires in the world are paying the equivalent of the Zakah!

Why+the+world+is+full+of+poverty.+Why+Zakat+is+one+of+the+Piller+of+Islam.jpg

People try to blame the Creator for injustice and hunger, when we can only blame the selective greed of some humans where wealth is concentrated, as Allah said in His book regarding the wisdom of giving Zakah "كي لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ so that money would not be exclusive with the rich among you," (Surat Alhashr 59:7).

Now imagine only these 20 people paid the Zakah 2.5%, that would be 25 billion. Now calculate this for the entire population of the US, and you will get approximately 375 billion, and divide that over 10 million poor people, and each person gets approximately $3,125 dollars a month!

You might say, why would these rich people bother? When there is less poverty, there is more productivity and less crime, which makes a society more prosperous and happier overall, thus everyone is a winner at the end!

May Allah make us from those who honour the 3rd pillar of Islam, and make us prosperous in this life so we may give more, and in the after with lots of Hasanat. Ameen!

Source: Dr. Waleed Hakeem

What is Zakat
Zakat is the third of the five Pillar of Islam. Zakat does not refer to charitable gifts given out of kindness or generosity, but to the systematic giving of 2.5% of one's wealth each year to benefit the poor. Zakat must be calculated on the following assets: gold, silver, cash, savings, investments, rental income, business merchandise and profits, shares, securities, and bonds etc. Zakat is not paid on wealth used for living expenses such as clothing, food, housing, transportation, education, etc.

In Arabic, the word zakat means purification, growth, and blessing. Paying zakat is meant to serve as a reminder to be appreciative of the blessings that Allah (SWT) has given, while empowering those who have less.

 

Comments here
Fri 19 Jul 2013

 Iftari for RS 899 + Tax per Head = A Week's food cost of a poor family... Think about it...

 

iftari+cost+ramadan.jpg

Categories : Thoughts / Lessons
Comments here
Tue 24 Jul 2012

عرصہ ہوا ایک ترک افسانہ پڑھا تھا یہ دراصل میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتل گھرانے کی کہانی تھی جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگا ہوا تھا۔ آخر اسی حالت میں ایک دن بچوں کو یتیم کر گیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ خانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے بار بار باہر نکل کر سامنے والے سفید مکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہو رہا ہے۔ جب بھی قدموں کی چاپ آتی انھیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آ رہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔

 

ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے کچھ روٹی کے سوکھے ٹکڑے ڈھونڈھ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلا پھسلا کر سلا دیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی "تلاش" کے بعد دو چار چیزیں نکل آئیں جنھیں کباڑیے کو فروخت کر کے دو چار وقت کے کھانے کا انتظام ہو گیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہو گئے تو پھر جان کے لالے پڑ گئے۔ بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا۔ ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچوں کی دکان پڑ جا کھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نا صرف صاف انکار کر دیا بلکہ دو چار باتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔

 

ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اور اوپر سے مسلسل فاقہ، آٹھ سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بکھر میں مبتلا ہو کر چارپائی پر پڑ گیا۔ دوا دارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ نہی تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جب کہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبا رہی تھی۔ اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگا کر بولی

 

"اماں بھائی کب مرے گا؟"

 

ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا "میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟"

 

بچی معصومیت سے بولی

 

"ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!"

 

اگر ہم اپنے پاس پڑوس میں نظر دوڑائیں تو اس طرح کی ایک چھوڑ کئی کہانیاں بکھری نظر آئیں گی۔ بہت معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں ہمارا معاشرہ مردہ پرست ہو چکا ہے۔ زندگی میں کوئی نہی پوچھتا مگر دم نکلتے وقت ہونٹوں پر دیسی گھی لگا دیا جاتا ہے تا کہ لوگ سمجھیں بڑے میاں دیسی گھی کھاتے کھاتے مرے ہیں۔ غالبا منٹو نے لکھا ہے کہ ایک بستی میں کوئی بھوکا شخص آ گیا، لوگوں سے کچھ کھانے کو مانگتا رہا مگر کسی نے کچھ نہی دیا۔ بیچارہ رات کو ایک دکان کے باہر فٹ پتہ پر پڑ گیا۔ صبح آ کر لوگوں نے دیکھا تو وہ مر چکا تھا۔ اب "اہل ایمان" کا "جذبہ ایمانی" بیدار ہوا، بازار میں چندہ کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دیگیں چڑھا دی گئیں، یہ منظر دیکھ کر ایک صاحب نے کہا "ظالمو! اب دیگیں چڑھا رہے ہو، اسے چند لقمے دے دیتے تھ یہ یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نا مرتا"۔

 

 حضرت مجدد الف ثانی فرمایا کرتے تھے کہ تم جو چادریں قبر پر چڑھاتے ہو اس کے زندہ لوگ زیادہ حقدار ہیں۔ ایک شخص رکے ہوئے بقایاجات کے لیے بیوی بچوں کے ساتھ مظاہرے کرتا رہا، حکومت ٹس سے مس نا ہوئی، تنگ آ کر اس نے خود سوزی کر لی تو دوسرے ہی روز ساری رقم ادا کر دی گئی۔ اسی طرح ایک صاحب کے مکان پڑ قبضہ ہو گیا، بڑی بھاگ دوڑ کی مگر کوئی سننے کو تیار نہی ہوا، اسی دوران دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، پولیس نے پھرتی دکھائی اور دوسرے ہی دن مکان سے قبضہ ختم کروا دیا۔ فائدہ؟ کیا اب اس مکان میں اس کا ہمزاد آ کر رہے گا؟

 

کیا ہمارا "جذبہ ایمانی" صرف مردوں کے لیے رہ گیا ہے۔ اپنے ارد گرد موجود زندوں کا خیال رکھي

 

Categories : Thoughts / Lessons
Comments here
Mon 25 May 2009

See the video....

let me tell their story
that no one else can hear
how can someones laughter
brings me close to tears
and you will never know
cause you are never there
after what we have seen
can we close our eyes again

let me tell their story
you would not think it true
i have not forgotten
so i m sharing it with you
for all the things we know
what have we really learned
though i close my eyes
the images remain
and their story
begins again...


This is a true story
Films Chicken a la Carte by Ferdinand Dimadura

around the world, 25,000 people die of hunger
EVERYDAY....

Think and do positive in your own capacity....It might will be questioned....

 

 

 

Categories : Thoughts / Lessons
Comments (2)