Tue 30 Oct 2018

تعد السكتة الدماغية إحدى المسببات الرئيسية للوفاة والمسبب الأول للأمراض المزمنة حول العالم

Stroke is one of the leading causes of death and the leading cause of chronic disease around the world

#كل_ثانية_ذات_قيمة
#Every_second_counts
#mohapuae

Categories : Health / Medical
E-mail this post to someone or Comments here
Wed 26 Sep 2018

يه صحيح هے كه آدمی كی زندگی موت الله تعالی كے هاتھ ميں هے، پھر بھی ​يه فرض كر ليں كه آپ 60 سال جيتے هيں۔​

ان 60 سال ميں اگر آپ يوميه 8 گھنٹے سوتے، اٹھتے بیٹھتے اور اس کی تیاری کرتے هيں تو گويا آپ ​20 سال سونے ميں گزار ديتے هيں۔​

اگر آپ يوميه 8 گھنٹے كام اور کام کے لیے آنا جانا كرتے هيں تو يه بھی 20 سال بنتے هيں۔ لہذا ​20 سال کام کاج میں گزارتے ہیں۔

 آپ كا بچپن، نہ سمجھی قبل بلوغت عمر، ٹی وی، انٹرنٹ، گھومنا پھرنا، دیگر معاملات 15 سالوں پر محیط هے۔​

اگر آپ دن ميں دو مرتبه كھانا كھاتے هيں تو كم و بيش نصف گھنٹا صرف هوتا هے۔ يوں آپ كی عمر كے ​3 سال كھانے پینے ميں صرف هوتے هيں۔​

 (20+20+15+8)كھانے پينے، سونے، كام كرنے اور بچپن كے يه ​مجموعی طور پر 58 سال بنتے هيں۔​

باقی بچے 2 سال۔​​

اب سوال يه هے كه ان دو سالوں میں آپ نے زندگی کیسے گزاری. عبادت كے ليے كتنا وقت مختص كرتے هيں؟

حقوق العباد میں کیا کیا. کس کا حق مارا اور کس کو حق دیا

قرآن کتنی بار اور سمجھ کر پڑھا

پورے دن میں 15 منٹ ہر نماز اور اس کی تیاری کے لیے وقت نکالا کے نہیں

قرآن جو کے الله کی کتاب کی ایک رکوع روز پڑھی. ایک رکوع نہ سہی ایک صفحہ پڑھا. ایک صفحہ نہ سہی ایک آیات پڑھی. جو پڑھا اسے سمجھا اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنایا کے نہیں

صرف ان دو سالوں میں؟

سوچو کے الله تعالی نے اگر آپ سے روزِ قيامت يه پوچھ ليا كه تم نے اپنی عمر كن كاموں ميں صرف کی تو آپ كا جواب كيا هوگا؟

کیا جواب یہ ہو گا کے زندگی کو سونے، اٹھتے بیٹھتے اور اس کی تیاری میں، کام کاج اور آنے جانے میں، کھانے پینے میں، انٹرنیٹ، گھومنے پھرنے میں گزارا، حلال طریقہ اختیار کیا یا حرام، حلال کھایا اور کھلایا یا حرام

 اور کیا جواب یہ ہو گا کے زندگی کو حوس اور نفس کی پوجا کرنے میں، حق چھینے اور مارنے میں، خواھشات کو پورا کرنے میں اور تیری اور تیرے رسول صلی اللہ علیھ و سلم کی سنّت اور ان کی بتائی ہی زندگی پر عمل نہ کرنے میں گزارا

سوچو قبل اس کے کہ الله سے کہنا نہ پر جائے ایک اور زندگی دے دو

زندگی میں بہت راستے لیکن موت کے بعد صرف دو راستے، ایک جنّت دوسرا جہنم

کس راستے جانا ہے اسی زندگی میں سوچ لیجئے

قرآن اور حدیث روز ہر نماز کے بعد تھوڑا سا چاہے ایک آیات ہی کیوں نہ ہو سمجھ کر پڑھیے

مع السلام

Categories : Thoughts / Lessons
E-mail this post to someone or Comments here
Tue 17 Jul 2018

ایک ڈھائی سال کا بچہ ایمرجنسی میں لایا گیا.

چابی سے کھیلتے ہوئے اس نے وہی چابی بجلی کی ایکسٹینشن میں دے دی. شدید جھٹکا لگا اور جب تک ہمارے پاس پہنچا حرکت قلب بند ہو چکی تھی.

خدارا بچوں کے معاملے میں بہت احتیاط کریں. بالخصوص یہ 1 سے 3 سال کی عمر نہایت خطرناک ہے.

اس عمر کے بچے کو:

- کسی صورت میں بھی سکہ یا کوئی بھی ایسی چھوٹے سائز کی کھیلنے والی چیز نہ دیں جو گلے میں پھنس سکتی ہو.

- گولیاں ٹافیاں بالکل نہ دیں اور ڈرائی فروٹ بھی اپنی نگرانی میں دیں.

- بچے کا فیڈر کبھی بھی مائکرو ویو میں گرم نہ کریں. اس سے دودھ ہر طرف سے ایک جیسا گرم نہیں ہوتا اور کوئی "ہاٹ سپاٹ" بچے کا منہ جلا سکتا ہے.

- پنسل، تیلا، چابی یا کوئی بھی نوکیلی چیز مت پکڑنے دیں.

- بجلی کے ساکٹس پر ٹیپ لگا کر رکھیں اور کوئی بھی تار ننگی یا بغیر پلگ کے نہ چھوڑیں.

- ٹیبل پر ایسا کپڑا نہ ہو جسے بچہ کھینچ لے اور اوپر پڑا کوئی ڈیکوریشن پیس اسے زخمی کر دے.

- دراز ایسے ہوں(سٹاپر والے) کے بچہ کھینچے تو پورے کے پورے باہر نکل کر اسکے اوپر نہ گر جائیں.

- بچے کو کبھی بھی پانی سے بھری بالٹی یا باتھ ٹب کے پاس اکیلا کھڑا نہ چھوڑیں-. ایک لمحے کیلئے بھی نہیں. بچے اوندھے منہ بالٹی میں گر کر فوراً ڈوب جاتے ہیں.

- بچے کے گلے میں تعویذ، لاکٹ وغیرہ نہ لٹکائیں اور نہ چوسنی کا ہار پہنائیں. یہ کسی بھی وقت پھندا بن سکتے ہیں.

- تمام ادویات اور خطرناک کیمیکلز (مٹی کا تیل، بلیچ، تیزاب وغیرہ) ہر صورت میں تالے میں رکھیں.

- سیڑھی اور چھت کی منڈیر کے معاملے میں خاص احتیاط کریں.

- موٹرسائیکل پر بغیر کسی تیسرے بڑے شخص کے اپنے ساتھ اکیلے مت بٹھائیں.

- گاڑی میں اگلی سیٹ پر ہرگز نہ بٹھائیں اور گود میں لے کر ڈرائیو کرنے والے احمقوں والی حرکت تو بالکل نہ کریں.

- بیرونی دروازے ہمیشہ بند رکھیں اور خیال رکھیں کہ بچے کا ہاتھ کنڈی یا لاک تک نہ پہنچتا ہو.

یہ چند احتیاطی تدابیر آپکے ہنستے بستے گھر کو آناً فاناً ماتم کدہ بننے سے بچا سکتی ہیں.

A two and half year-old child was brought to emergency.

While playing with the key, he gave the same key to the power of electricity. It was a severe shock, the heart was closed.

Please be very careful in the case of children. Especially this is the age of 1 to 3 years old.

To the child of this age:

- Do not give a coin in any form or any small size that can be stuck in the throat.

- Pills Candy don't give and dry fruit also keep in your monitor.

- Baby's feeder never hot in the microwave. The milk is not hot every inside as any "hot spot" can burn Child's mouth.

- Don't let them catch pencil, key or any pointed item.

- Keep tape or plastic adopter on the sockets of electricity and don't leave any wire naked or without plug.

- Don't keep such cloth on the table that the child can pull and on the top there is no decoration piece, glass or heavy item on it.

- Do not Let the child never stand alone in bath filled with water, not even for a moment. The children may fall down in the face and they are drowned.

- Do not wore your children any amulet, locket or necklace as they can take them in mouth and reached to their throat.

- All medicines and dangerous chemicals (Mud Oil, bleaching, acid etc) keep in the locks in every case.

- Take special care in the case of ladder and roof.

- Don't let them sit alone on motorcycle without third adult person.

- Do not set your children in front seat of the car, and the fools who drive in the lap, do not be able to do so.

- Keep the outer doors always keep off and take care that the child's hand does not reach the kandi or the lock.

This few security strategies can save the house from becoming the mourning temple.

Categories : Thoughts / Lessons
E-mail this post to someone or Comments here
Thu 14 Jun 2018

 

Lyrics - كلمات الأنشودة

Do you know who makes the sadness go away when life turns its back on you?

أتدري من يزيل الهم إن ضآقت بك الدنيآ

 

And who takes care of you , (and) never forgets you however you live …

ومن يرعآك لآ ينسآك دوماً كيفمآ تحيآ

 

So glory be to Allah who guides and heals one’s confusion

فسبحآن الذي يهدي ويشفي حيرة العبد

 

And He gives without limits in this life .

ويعطي دونمآ حدٍ جزيل الأجر في الدنيآ

 

Do you know who answers man if he makes a mistake in public or or hides it?

أتدري من يجيب العبد أبدى السوء أو وآرى

 

And who gives Paradise and rivers as a reward for charity .

ومن يجزي على المعروف جنآت وأنهآرآ

 

So say ‘O Allah , let me reach the Home of Eternity and safety .’

فقل يآرب بلغني لدآر الخلد والأمن

 

And to solve my problems and let not anyone harm me .

ونفس كربتي عني وجنبني أذى الدنيآ

 

Do you know who guided man and encouraged him to give in charity?

أتدري من هدى الإنسآن بالإحسآن يوصيه

 

And He doesn’t accept you to disobey Him , so look how do you keep disobeying Him?

ولآ يرضى له العصيآن فأُنظر كيف تعصيه

 

So Who do you show the complaints to and beg for the things you desire?

فمن تبدي له الشكوى ومن ترجوه مآ تهوى

 

And where can you find any relief and peace if you not under His Forgiveness?

ومن في عفوه السلوى على مآ

 

…in this World?

كآن في الدنيآ

 

Categories : Reality of Islam
E-mail this post to someone or Comments here
Tue 24 Jul 2012

عرصہ ہوا ایک ترک افسانہ پڑھا تھا یہ دراصل میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتل گھرانے کی کہانی تھی جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگا ہوا تھا۔ آخر اسی حالت میں ایک دن بچوں کو یتیم کر گیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ خانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے بار بار باہر نکل کر سامنے والے سفید مکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہو رہا ہے۔ جب بھی قدموں کی چاپ آتی انھیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آ رہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔

 

ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے کچھ روٹی کے سوکھے ٹکڑے ڈھونڈھ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلا پھسلا کر سلا دیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی "تلاش" کے بعد دو چار چیزیں نکل آئیں جنھیں کباڑیے کو فروخت کر کے دو چار وقت کے کھانے کا انتظام ہو گیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہو گئے تو پھر جان کے لالے پڑ گئے۔ بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا۔ ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچوں کی دکان پڑ جا کھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نا صرف صاف انکار کر دیا بلکہ دو چار باتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔

 

ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اور اوپر سے مسلسل فاقہ، آٹھ سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بکھر میں مبتلا ہو کر چارپائی پر پڑ گیا۔ دوا دارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ نہی تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جب کہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبا رہی تھی۔ اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگا کر بولی

 

"اماں بھائی کب مرے گا؟"

 

ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا "میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟"

 

بچی معصومیت سے بولی

 

"ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!"

 

اگر ہم اپنے پاس پڑوس میں نظر دوڑائیں تو اس طرح کی ایک چھوڑ کئی کہانیاں بکھری نظر آئیں گی۔ بہت معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں ہمارا معاشرہ مردہ پرست ہو چکا ہے۔ زندگی میں کوئی نہی پوچھتا مگر دم نکلتے وقت ہونٹوں پر دیسی گھی لگا دیا جاتا ہے تا کہ لوگ سمجھیں بڑے میاں دیسی گھی کھاتے کھاتے مرے ہیں۔ غالبا منٹو نے لکھا ہے کہ ایک بستی میں کوئی بھوکا شخص آ گیا، لوگوں سے کچھ کھانے کو مانگتا رہا مگر کسی نے کچھ نہی دیا۔ بیچارہ رات کو ایک دکان کے باہر فٹ پتہ پر پڑ گیا۔ صبح آ کر لوگوں نے دیکھا تو وہ مر چکا تھا۔ اب "اہل ایمان" کا "جذبہ ایمانی" بیدار ہوا، بازار میں چندہ کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دیگیں چڑھا دی گئیں، یہ منظر دیکھ کر ایک صاحب نے کہا "ظالمو! اب دیگیں چڑھا رہے ہو، اسے چند لقمے دے دیتے تھ یہ یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نا مرتا"۔

 

 حضرت مجدد الف ثانی فرمایا کرتے تھے کہ تم جو چادریں قبر پر چڑھاتے ہو اس کے زندہ لوگ زیادہ حقدار ہیں۔ ایک شخص رکے ہوئے بقایاجات کے لیے بیوی بچوں کے ساتھ مظاہرے کرتا رہا، حکومت ٹس سے مس نا ہوئی، تنگ آ کر اس نے خود سوزی کر لی تو دوسرے ہی روز ساری رقم ادا کر دی گئی۔ اسی طرح ایک صاحب کے مکان پڑ قبضہ ہو گیا، بڑی بھاگ دوڑ کی مگر کوئی سننے کو تیار نہی ہوا، اسی دوران دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، پولیس نے پھرتی دکھائی اور دوسرے ہی دن مکان سے قبضہ ختم کروا دیا۔ فائدہ؟ کیا اب اس مکان میں اس کا ہمزاد آ کر رہے گا؟

 

کیا ہمارا "جذبہ ایمانی" صرف مردوں کے لیے رہ گیا ہے۔ اپنے ارد گرد موجود زندوں کا خیال رکھي

 

Categories : Thoughts / Lessons
E-mail this post to someone or Comments here