Tue 17 Jul 2018

ایک ڈھائی سال کا بچہ ایمرجنسی میں لایا گیا.

چابی سے کھیلتے ہوئے اس نے وہی چابی بجلی کی ایکسٹینشن میں دے دی. شدید جھٹکا لگا اور جب تک ہمارے پاس پہنچا حرکت قلب بند ہو چکی تھی.

خدارا بچوں کے معاملے میں بہت احتیاط کریں. بالخصوص یہ 1 سے 3 سال کی عمر نہایت خطرناک ہے.

اس عمر کے بچے کو:

- کسی صورت میں بھی سکہ یا کوئی بھی ایسی چھوٹے سائز کی کھیلنے والی چیز نہ دیں جو گلے میں پھنس سکتی ہو.

- گولیاں ٹافیاں بالکل نہ دیں اور ڈرائی فروٹ بھی اپنی نگرانی میں دیں.

- بچے کا فیڈر کبھی بھی مائکرو ویو میں گرم نہ کریں. اس سے دودھ ہر طرف سے ایک جیسا گرم نہیں ہوتا اور کوئی "ہاٹ سپاٹ" بچے کا منہ جلا سکتا ہے.

- پنسل، تیلا، چابی یا کوئی بھی نوکیلی چیز مت پکڑنے دیں.

- بجلی کے ساکٹس پر ٹیپ لگا کر رکھیں اور کوئی بھی تار ننگی یا بغیر پلگ کے نہ چھوڑیں.

- ٹیبل پر ایسا کپڑا نہ ہو جسے بچہ کھینچ لے اور اوپر پڑا کوئی ڈیکوریشن پیس اسے زخمی کر دے.

- دراز ایسے ہوں(سٹاپر والے) کے بچہ کھینچے تو پورے کے پورے باہر نکل کر اسکے اوپر نہ گر جائیں.

- بچے کو کبھی بھی پانی سے بھری بالٹی یا باتھ ٹب کے پاس اکیلا کھڑا نہ چھوڑیں-. ایک لمحے کیلئے بھی نہیں. بچے اوندھے منہ بالٹی میں گر کر فوراً ڈوب جاتے ہیں.

- بچے کے گلے میں تعویذ، لاکٹ وغیرہ نہ لٹکائیں اور نہ چوسنی کا ہار پہنائیں. یہ کسی بھی وقت پھندا بن سکتے ہیں.

- تمام ادویات اور خطرناک کیمیکلز (مٹی کا تیل، بلیچ، تیزاب وغیرہ) ہر صورت میں تالے میں رکھیں.

- سیڑھی اور چھت کی منڈیر کے معاملے میں خاص احتیاط کریں.

- موٹرسائیکل پر بغیر کسی تیسرے بڑے شخص کے اپنے ساتھ اکیلے مت بٹھائیں.

- گاڑی میں اگلی سیٹ پر ہرگز نہ بٹھائیں اور گود میں لے کر ڈرائیو کرنے والے احمقوں والی حرکت تو بالکل نہ کریں.

- بیرونی دروازے ہمیشہ بند رکھیں اور خیال رکھیں کہ بچے کا ہاتھ کنڈی یا لاک تک نہ پہنچتا ہو.

یہ چند احتیاطی تدابیر آپکے ہنستے بستے گھر کو آناً فاناً ماتم کدہ بننے سے بچا سکتی ہیں.

A two and half year-old child was brought to emergency.

While playing with the key, he gave the same key to the power of electricity. It was a severe shock, the heart was closed.

Please be very careful in the case of children. Especially this is the age of 1 to 3 years old.

To the child of this age:

- Do not give a coin in any form or any small size that can be stuck in the throat.

- Pills Candy don't give and dry fruit also keep in your monitor.

- Baby's feeder never hot in the microwave. The milk is not hot every inside as any "hot spot" can burn Child's mouth.

- Don't let them catch pencil, key or any pointed item.

- Keep tape or plastic adopter on the sockets of electricity and don't leave any wire naked or without plug.

- Don't keep such cloth on the table that the child can pull and on the top there is no decoration piece, glass or heavy item on it.

- Do not Let the child never stand alone in bath filled with water, not even for a moment. The children may fall down in the face and they are drowned.

- Do not wore your children any amulet, locket or necklace as they can take them in mouth and reached to their throat.

- All medicines and dangerous chemicals (Mud Oil, bleaching, acid etc) keep in the locks in every case.

- Take special care in the case of ladder and roof.

- Don't let them sit alone on motorcycle without third adult person.

- Do not set your children in front seat of the car, and the fools who drive in the lap, do not be able to do so.

- Keep the outer doors always keep off and take care that the child's hand does not reach the kandi or the lock.

This few security strategies can save the house from becoming the mourning temple.

Categories : Thoughts / Lessons
E-mail this post to someone or Comments here
Thu 14 Jun 2018

 

Lyrics - كلمات الأنشودة

Do you know who makes the sadness go away when life turns its back on you?

أتدري من يزيل الهم إن ضآقت بك الدنيآ

 

And who takes care of you , (and) never forgets you however you live …

ومن يرعآك لآ ينسآك دوماً كيفمآ تحيآ

 

So glory be to Allah who guides and heals one’s confusion

فسبحآن الذي يهدي ويشفي حيرة العبد

 

And He gives without limits in this life .

ويعطي دونمآ حدٍ جزيل الأجر في الدنيآ

 

Do you know who answers man if he makes a mistake in public or or hides it?

أتدري من يجيب العبد أبدى السوء أو وآرى

 

And who gives Paradise and rivers as a reward for charity .

ومن يجزي على المعروف جنآت وأنهآرآ

 

So say ‘O Allah , let me reach the Home of Eternity and safety .’

فقل يآرب بلغني لدآر الخلد والأمن

 

And to solve my problems and let not anyone harm me .

ونفس كربتي عني وجنبني أذى الدنيآ

 

Do you know who guided man and encouraged him to give in charity?

أتدري من هدى الإنسآن بالإحسآن يوصيه

 

And He doesn’t accept you to disobey Him , so look how do you keep disobeying Him?

ولآ يرضى له العصيآن فأُنظر كيف تعصيه

 

So Who do you show the complaints to and beg for the things you desire?

فمن تبدي له الشكوى ومن ترجوه مآ تهوى

 

And where can you find any relief and peace if you not under His Forgiveness?

ومن في عفوه السلوى على مآ

 

…in this World?

كآن في الدنيآ

 

Categories : Reality of Islam
E-mail this post to someone or Comments here
Tue 24 Jul 2012

عرصہ ہوا ایک ترک افسانہ پڑھا تھا یہ دراصل میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتل گھرانے کی کہانی تھی جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگا ہوا تھا۔ آخر اسی حالت میں ایک دن بچوں کو یتیم کر گیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ خانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے بار بار باہر نکل کر سامنے والے سفید مکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہو رہا ہے۔ جب بھی قدموں کی چاپ آتی انھیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آ رہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔

 

ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے کچھ روٹی کے سوکھے ٹکڑے ڈھونڈھ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلا پھسلا کر سلا دیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی "تلاش" کے بعد دو چار چیزیں نکل آئیں جنھیں کباڑیے کو فروخت کر کے دو چار وقت کے کھانے کا انتظام ہو گیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہو گئے تو پھر جان کے لالے پڑ گئے۔ بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا۔ ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچوں کی دکان پڑ جا کھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نا صرف صاف انکار کر دیا بلکہ دو چار باتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔

 

ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اور اوپر سے مسلسل فاقہ، آٹھ سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بکھر میں مبتلا ہو کر چارپائی پر پڑ گیا۔ دوا دارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ نہی تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جب کہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبا رہی تھی۔ اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگا کر بولی

 

"اماں بھائی کب مرے گا؟"

 

ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا "میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟"

 

بچی معصومیت سے بولی

 

"ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!"

 

اگر ہم اپنے پاس پڑوس میں نظر دوڑائیں تو اس طرح کی ایک چھوڑ کئی کہانیاں بکھری نظر آئیں گی۔ بہت معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں ہمارا معاشرہ مردہ پرست ہو چکا ہے۔ زندگی میں کوئی نہی پوچھتا مگر دم نکلتے وقت ہونٹوں پر دیسی گھی لگا دیا جاتا ہے تا کہ لوگ سمجھیں بڑے میاں دیسی گھی کھاتے کھاتے مرے ہیں۔ غالبا منٹو نے لکھا ہے کہ ایک بستی میں کوئی بھوکا شخص آ گیا، لوگوں سے کچھ کھانے کو مانگتا رہا مگر کسی نے کچھ نہی دیا۔ بیچارہ رات کو ایک دکان کے باہر فٹ پتہ پر پڑ گیا۔ صبح آ کر لوگوں نے دیکھا تو وہ مر چکا تھا۔ اب "اہل ایمان" کا "جذبہ ایمانی" بیدار ہوا، بازار میں چندہ کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دیگیں چڑھا دی گئیں، یہ منظر دیکھ کر ایک صاحب نے کہا "ظالمو! اب دیگیں چڑھا رہے ہو، اسے چند لقمے دے دیتے تھ یہ یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نا مرتا"۔

 

 حضرت مجدد الف ثانی فرمایا کرتے تھے کہ تم جو چادریں قبر پر چڑھاتے ہو اس کے زندہ لوگ زیادہ حقدار ہیں۔ ایک شخص رکے ہوئے بقایاجات کے لیے بیوی بچوں کے ساتھ مظاہرے کرتا رہا، حکومت ٹس سے مس نا ہوئی، تنگ آ کر اس نے خود سوزی کر لی تو دوسرے ہی روز ساری رقم ادا کر دی گئی۔ اسی طرح ایک صاحب کے مکان پڑ قبضہ ہو گیا، بڑی بھاگ دوڑ کی مگر کوئی سننے کو تیار نہی ہوا، اسی دوران دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، پولیس نے پھرتی دکھائی اور دوسرے ہی دن مکان سے قبضہ ختم کروا دیا۔ فائدہ؟ کیا اب اس مکان میں اس کا ہمزاد آ کر رہے گا؟

 

کیا ہمارا "جذبہ ایمانی" صرف مردوں کے لیے رہ گیا ہے۔ اپنے ارد گرد موجود زندوں کا خیال رکھي

 

Categories : Thoughts / Lessons
E-mail this post to someone or Comments here
Sun 22 May 2011

A letter from Mom and Dad

...My Child,

When I get old,
I hope you understand and have patience with me.

In case I break a plate,
or spill soup on the table because I am losing my eyesight,
I hope you don't yell at me.
Older people are sensitive.
Always having self-pity when you yell.

When my hearing gets worse and I can't hear what you are saying,
I hope you don't call me, "Deaf!"
Please repeat what you say
Or write it down

I am sorry, my child.
... I am getting older

When my knees get weaker,
I hope you have the patience to help me get up.
Like how I used to help you when you were little,
learning how to walk.

Please bear with me
When I keep repeating myself like a broken record,
I hope you just keep listening to me
Please don't make fun of me,
or
get sick of listening to me

Do you remember when you were little and you wanted a Balloon?
You repeated yourself over and over until you got what you wanted

...Please also pardon my smell.
I smell like an old person
Please don't force me to shower.
My body is weak.
Old people gets sick easily when they are cold.
I hope I don't gross you out.

Do you remember when you were little?
I used to chase you around because you didn't want to shower.

I hope you can be patient with me
When I am always cranky
It's all part of getting old.
You'll understand when you're older

And if you have spare time,
I hope we can talk
Even for a few minutes
I am always by myself all the time.
And have no one to talk to
I know you are busy with work.
Even if you are not interested in my stories,
please have time for me.

Do you remember when you were little?
I used to listen to your stories about your teddy bear.

When the time comes
and I get ill and bedridden,
I hope you have the patience to take care of me.

I'm Sorry
If I accidentally wet the bed or make a mess.
I hope you have the patience to take care of me during the last few moments of my life
I am not going to last much longer, anyway.

When the time of my death comes,
I hope you hold my hand
and give me the strength to face death.

And don't worry...
When I finally meet our creator..
I will whisper in his ear
to BLESS you
Because you loved your Mom and Dad.
Thank you so much for your care.
We love you.

With much love,
- Mom and Dad-

 

{We made a covenant with the Children of Israel: "You shall not worship except GOD. You shall honor your parents and regard the relatives, the orphans, and the poor. You shall treat the people amicably. You shall observe the Contact Prayers (Salat) and give the obligatory charity (Zakat)." But you turned away, except a few of you, and you became averse.} [The Quran 2:83]



Categories : Thoughts / Lessons
E-mail this post to someone or Comments here