Thu 12 Dec 2019

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں 
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں 

دیکھنے والا اک نہیں ملتا 
آنکھ والے کثیر ہوتے ہیں 

جن کو دولت حقیر لگتی ہے 
اف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں 

جن کو قدرت نے حسن بخشا ہو 
قدرتاً کچھ شریر ہوتے ہیں 

زندگی کے حسین ترکش میں 
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں 

وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں 
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں 

پھول دامن میں چند رکھ لیجے 
راستے میں فقیر ہوتے ہیں 

ہے خوشی بھی عجیب شے لیکن 
غم بڑے دل پذیر ہوتے ہیں 

اے عدمؔ احتیاط لوگوں سے 
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں 
(عبدالحمیدعدم)

Tags: , ,
Categories : Thoughts / Lessons
Comments here


Add Comment Post comment

 
 
 
   Country flag

Loading