Wed 26 Sep 2018

يه صحيح هے كه آدمی كی زندگی موت الله تعالی كے هاتھ ميں هے، پھر بھی ​يه فرض كر ليں كه آپ 60 سال جيتے هيں۔​

ان 60 سال ميں اگر آپ يوميه 8 گھنٹے سوتے، اٹھتے بیٹھتے اور اس کی تیاری کرتے هيں تو گويا آپ ​20 سال سونے ميں گزار ديتے هيں۔​

اگر آپ يوميه 8 گھنٹے كام اور کام کے لیے آنا جانا كرتے هيں تو يه بھی 20 سال بنتے هيں۔ لہذا ​20 سال کام کاج میں گزارتے ہیں۔

 آپ كا بچپن، نہ سمجھی قبل بلوغت عمر، ٹی وی، انٹرنٹ، گھومنا پھرنا، دیگر معاملات 15 سالوں پر محیط هے۔​

اگر آپ دن ميں دو مرتبه كھانا كھاتے هيں تو كم و بيش نصف گھنٹا صرف هوتا هے۔ يوں آپ كی عمر كے ​3 سال كھانے پینے ميں صرف هوتے هيں۔​

 (20+20+15+8)كھانے پينے، سونے، كام كرنے اور بچپن كے يه ​مجموعی طور پر 58 سال بنتے هيں۔​

باقی بچے 2 سال۔​​

اب سوال يه هے كه ان دو سالوں میں آپ نے زندگی کیسے گزاری. عبادت كے ليے كتنا وقت مختص كرتے هيں؟

حقوق العباد میں کیا کیا. کس کا حق مارا اور کس کو حق دیا

قرآن کتنی بار اور سمجھ کر پڑھا

پورے دن میں 15 منٹ ہر نماز اور اس کی تیاری کے لیے وقت نکالا کے نہیں

قرآن جو کے الله کی کتاب کی ایک رکوع روز پڑھی. ایک رکوع نہ سہی ایک صفحہ پڑھا. ایک صفحہ نہ سہی ایک آیات پڑھی. جو پڑھا اسے سمجھا اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنایا کے نہیں

صرف ان دو سالوں میں؟

سوچو کے الله تعالی نے اگر آپ سے روزِ قيامت يه پوچھ ليا كه تم نے اپنی عمر كن كاموں ميں صرف کی تو آپ كا جواب كيا هوگا؟

کیا جواب یہ ہو گا کے زندگی کو سونے، اٹھتے بیٹھتے اور اس کی تیاری میں، کام کاج اور آنے جانے میں، کھانے پینے میں، انٹرنیٹ، گھومنے پھرنے میں گزارا، حلال طریقہ اختیار کیا یا حرام، حلال کھایا اور کھلایا یا حرام

 اور کیا جواب یہ ہو گا کے زندگی کو حوس اور نفس کی پوجا کرنے میں، حق چھینے اور مارنے میں، خواھشات کو پورا کرنے میں اور تیری اور تیرے رسول صلی اللہ علیھ و سلم کی سنّت اور ان کی بتائی ہی زندگی پر عمل نہ کرنے میں گزارا

سوچو قبل اس کے کہ الله سے کہنا نہ پر جائے ایک اور زندگی دے دو

زندگی میں بہت راستے لیکن موت کے بعد صرف دو راستے، ایک جنّت دوسرا جہنم

کس راستے جانا ہے اسی زندگی میں سوچ لیجئے

قرآن اور حدیث روز ہر نماز کے بعد تھوڑا سا چاہے ایک آیات ہی کیوں نہ ہو سمجھ کر پڑھیے

مع السلام

Categories : Thoughts / Lessons
Comments here